Golden Toilet

سونے جیسی قیمتی دھات سے تیار کی جانے والی چند مضحکہ خیز، عجیب و غریب اشیاء

EjazNews

انسان نے تہذیب کی دنیا میں قدم رکھا، تو اُسے لین دین کی ضرورت پیش آئی، جس کے لیے اُس نے پہلے پہل اشیاء کے تبادلے کا طریقہ اپنایا، مگرجلد ہی احساس ہوگیا کہ اس طرح لین دین آسان نہیں، تو اس عمل کو آسان بنانے کے لیے مختلف اشیاء کا استعمال شروع کیا اور پھر صدیوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے لیے سونا (گولڈ) ہی سب سے بہتر ہے۔ اسی لیے سونے کو رفتہ رفتہ ’’زر،، کی حیثیت حاصل ہوگئی اور اس کے سکّے بھی وجود میں آگئے، سونے نے زرِمستحکم کی حیثیت حاصل کرلی، تو اس طرح نہ صرف لین دین آسان ہوگیا، بلکہ کاروبارمیں بھی تیزی آگئی۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سونا، کرئہ ارض پر پائی جانے والی واحد ایسی اَن مول دھات ہے، جس کی محبت میں انسان ہمیشہ ہی سے مبتلا رہا ہے۔ ابتدا میں اس کا استعمال کرنسی کے طور پر کیا جاتا تھا۔ بعدازاں، سامان کی خرید فروخت اور معاشی خدمات کے تبادلے کو مستحکم رکھنے کے لیے اس پر انحصار ناگزیر ہوگیا۔ عالمی معیشت میں سونے کایہ کلیدی کردار آج تک برقرار ہے۔ دورِ جدید کی تقریباً ہر ریاست کے زیادہ تر مالیاتی ذخائر سونے ہی پر مشتمل ہیں۔ بظاہر سونا کسی بھی شئے کو بہ لحاظِ کارکردگی بہتر نہیں بناتا، لیکن اس کے باجود یہ چمک دار دھات ’’وجہ خُوب صُورتی‘‘ گردانی جاتی ہے۔ شاید اسی لیے یہ خواتین کے سنگھار کا ایک لازمی جزو ہے۔ سونے کی قدر و قیمت اور اہمیت کا اندازہ اس مثال سے لگالیں کہ اگر آپ کے پاس ایک کروڑ روپے مالیت کی قیمتی گاڑی ہے، مگر ساتھ ہی اُس پر سونے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کسی نام کی شکل میں نصب ہے، تو یقین مانیے، دیکھنے والے اس قیمتی گاڑی کے بجائے سونے کے چھوٹے سے ٹکڑے کی زیادہ ستائش کریں گے۔ بہرکیف، زیرِنظر مضمون میں اس قیمتی دھات سے بنائی جانے والی چند مضحکہ خیز، غیرضروری اورعجیب وغریب اشیاء کا تذکرہ کیا جارہا ہے، جن سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ زمانہ کوئی بھی ہو، سونا بالآخر سونا ہی ہے۔

سونے کا تابوت:یہ مشہور محاورہ تو یقیناً ہر کسی نے سُنا ہوگا کہ ’’بعض افراد منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں‘‘ یعنی پیدایشی امیر ہوتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری دنیا میں کچھ متموّل افراد ایسے بھی ہیں، جن کی تدفین بھی سونے کے تابوت میں کی جاتی ہے۔ جی ہاں، صرف ماضی ہی میں نہیں بلکہ حال میں بھی بے شمار لوگ وفات سے قبل اپنی تدفین کے لیے سونے کے تابوت کا بندوبست کرکے جاتے ہیں۔ دل چسپ بات تو یہ ہے کہ ’’پروٹیمین‘‘ نامی سونے کا تابوت دورِ جدید کا ایک مشہور تابوت ہے، جسے مائیکل جیکسن اور جیمزبراؤن وغیرہ جیسی معروف شخصیات کی آخری رسومات کے دوران بارہا ملاحظہ کیا جاچکا ہے۔ اس سنہری تابوت کو عالمی ذرائع ابلاغ میں ’’گولڈن ارس آف‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سونے کے یہ قیمتی تابوت ’’بیٹس ویل کاسکیٹ‘‘ نامی ایک قدیم کمپنی تیار کرکے فروخت کرتی ہے، جو اعلیٰ معیار کے تابوت تیار کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد 1884ء میں جان ہلن برینڈ نے نقش و نگار سے مزیّن اعلیٰ درجے کی لکڑی کے تابوت تیار کرنے کے لیے رکھی تھی۔ بعدازاں، اس کمپنی نے1906ء میں سونے کے تابوت بھی بنانا شروع کردیئے۔سونے کا ایک تابوت تقریباً دو ہفتوں میں تیار ہوتا ہے، کیوں کہ اسے کمپنی کے ماہر مکمل طور پر ہاتھ سے بناتے ہیں۔ تابوت کا اندرونی حصّہ مخملیں اور دبیز کپڑے سے بنایا جاتا ہے، جب کہ بیرونی حصّے پر 24 قیراط خالص سونے کی پتریاں انتہائی نفاست سے چڑھائی جاتی ہیں۔ نیز، گاہک کی خواہش اور فرمائش پر تابوت کے بیرونی حصّے پر کمپنی کی جانب سے نقش و نگار بھی کندہ کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، زمین میں تادیر محفوظ رکھنے کے لیے اس کے بالائی حصّے میں خفیہ تالا نصب کرکے مخصوص کیمیکل کی تہہ بھی چڑھائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ سونے کا یہ تابوت آن لائن فروخت کے لیے بھی دست یاب ہے۔ یعنی دنیا کے کسی بھی حصّے میں رہنے والا شخص اپنی یا اپنے لواحقین کی تدفین کے لیے سونے کے اس قیمتی تابوت کو 24,000 امریکی ڈالرز (پاکستانی کرنسی میں 38لاکھ 62ہزار روپے) کے عوض بہ آسانی خرید سکتا ہے۔
سونے کے شیشوں والی عینک: آپ نے ایسی عینک کے بارے میں تو ضرور سنا ہوگا کہ جس کا فریم سونے کا بنا ہو، لیکن شاید آپ نے ایسی عینک کے بارے میں کبھی سنا یا پڑھا نہ ہو کہ جس کے فریم ہی نہیں، بلکہ شیشوں میں بھی سونا شامل کیا گیا ہو۔ سُننے اور پڑھنے میں خواہ یہ بات کتنی ہی عجیب کیوں نہ لگے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اب عینک کے لیے سونے سے تیارکردہ شیشے دنیا بھر میں فروخت کے لیے دستیاب ہیں، لیکن ان شیشوں کو خریدنے سے پہلے ذرا اپنی عینک کے شیشوں کو اچھی طرح سے صاف ضرور کرلیجیے گا، تاکہ بعد میں آپ یہ شکوہ نہ کریں کہ ہمیں قیمت ٹھیک سے نظر نہیں آئی تھی۔ جی ہاں، ان شیشوں کی ایک جوڑی کی قیمت 75,000 امریکی ڈالر ہے۔ (پاکستانی کرنسی میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ روپے) بظاہر آپ کو قیمت بہت زیادہ محسوس ہورہی ہوگی، لیکن جس حیرت انگیز انداز میں سونے کے یہ منفرد شیشے تیار کیے جاتے ہیں، اُسے ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے عینک کے شیشوں میں سونے سے زیادہ اسے بنانے والے کی ہنرمندی کی قیمت شامل کی گئی ہے۔ دراصل سونے سے صرف شیشے ہی نہیں بنائے جاتے بلکہ مخصوص شیشے میں خالص سونے کے ننّھے، ننّھے ذرّات کچھ اس مہارت کے ساتھ شامل کیے جاتے ہیں کہ عینک پہننے والے کو صاف اور واضح دکھائی دینے کے ساتھ دیکھنے والوں کو بھی عینک کا سنہری اور روپہلا سونا نظر آتا رہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ عینک کا صرف ایک شیشہ مکمل کرنے میں پورے 40 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ یعنی 80 گھنٹوں کی طویل عرق ریزی کے بعد یہ دو نایاب اور قیمتی شیشے تیار ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا ہم اپنے کرۂ ارض کورہنے کے قابل چھوڑیں گے

گولڈن باربی کیو گِرل:

’’مانا کہ سونے کو کھایا نہیں جاسکتا، لیکن سونے پر پکایا تو جاسکتاہے۔‘‘ جس کے ذہنِ رسَا میں یہ اُچھوتا اور منفرد خیال آیا ہوگا، بلاشبہ سب سے پہلے اُسی شخص نے سونے کی باربی کیو گِرل بنانے کے بارے میں سوچا بھی ہوگا۔ ویسے تو ہر باربی کیو کھانے میں مزے دار ہوتا ہے، لیکن اگر یہ سونے کی گِرل پر پکایا گیا ہو، تو پھر یقیناً ایسا بارکیو لذیذہونے کے ساتھ ساتھ بہت قیمتی بھی ہوگا اور اُسے تناول فرمانے والے افراد خوش قسمت تصور کیے جائیں گے، کیوں کہ سونے سے بنی اس گولڈن باربی کیو گِرل کی قیمت 155,000 امریکی ڈالر (پاکستانی کرنسی میں دو کروڑ اُنچاس لاکھ روپے)ہے۔ واضح رہے کہ’’برنر ایل ایس 4000‘‘ نامی اس گولڈن باربی کیوگِرل کو آسٹریلیائی گرل کمپنی ’’بیف ایٹر‘‘ نے خالص 24 قیراط سونے سے بنایا ہے۔ جس میں وارمنگ ریک سے لے کر چھوٹے سے نٹ بولٹ تک سب سونے کے ہیں۔ شاید اسی لیے گولڈن باربی کیو گرل کو دنیا کی سب سے منہگی گرل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس گِرل کو 2007ء کے سڈنی ہوم شو کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم، یہ قابلِ فروخت نہیں ہے۔ بیف ایٹر کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’گولڈن باربی کیو گِرل بالکل ایک عام سی فولادی گِرل کی طرح استعمال میں لائی جاسکتی ہے اور اس میں لگائے گئے سونے کو آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیوں کہ سونے کو پگھلانے کے لیے 2000 فارن ہائیٹ درجۂ حرات درکار ہوتاہے، جب کہ باربی کیو گِرل کا درجۂ حرارت زیادہ سے زیادہ 700 ڈگری فارن ہائیٹ کے قریب رہتا ہے۔‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے سڈنی ہوم شو کے دوران شرکاء کی تواضع گولڈن باربی کیو گرل کے ذریعے بالکل مفت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے ایٹمی پاکستان بننے کا دن28مئی 1998

سونے کی قمیص:

برِصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے لوگ سونے سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ یہ بات ساری دنیا صرف جانتی ہی نہیں، مانتی بھی ہے۔ ہماری خواتین سونے کے زیورات کے بغیر خود کو ادھورا سمجھتی ہیں، جب کہ بعض مرد بھی سونے کی گھڑیاں، زنجیریں اور انگوٹھیاں پہن کر اپنی امارت کا فخریہ اظہار کرتے ہیں۔ سونے کی اسی محبّت اور جنون میں مبتلا بھارت کے شہر، پُونا سے تعلق رکھنے والے ایک کروڑ پتی تاجر دتاپوگے نے اپنے زیبِ تن کے لیے خصوصی طور پر سونے کی قمیص تیار کروائی۔ چمک دمک سے مزیّن اس قیمتی ترین قمیص میں تقریباً 7 پاؤنڈ سونا استعمال کیا گیا ہے، جس کی قیمت 250,000 امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔ (پاکستانی کرنسی میں چار کروڑ دو لاکھ روپے) سونے کی یہ چمچماتی قمیص تیار کرنے والے سنار کا خاندان گزشتہ تقریباًڈیڑھ سو سال سے زرگری کے پیشے سے منسلک ہے۔ قمیص کی تیاری کے لیے سنار نے ہندوستان کے راجہ مہاراجائوں کی قدیم تصاویر سے بھی مدد لی ہے، جو وہ اُس دَور میں زیبِ تن کیا کرتے تھے۔ دتا پوگے جب یہ سونے سے تیار کردہ چمچماتی قمیص پہن کر باہر نکلتے ہیں، تو لوگ انہیں رشک اور حیرانی سے دیکھتے ہیں۔ بعض افراد اسے پیسے کا زیاں قرار دیتے ہیں، تاہم دتاپوگے اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’کچھ لوگ بڑی گاڑیوں، بڑے گھروں کے مالک بننا چاہتے ہیں، گو کہ وہ بھی میرے پاس ہیں، لیکن میرا حقیقی انتخاب اوردیرینہ خواہش ہمیشہ سے سونے کا حصول ہی رہی ہے۔ لہٰذا میں نے سونے کی قمیص پہننے کا اپنا برسوں پرانا خواب سچ کردکھایا۔ میرے لیے سب سے خوشی کی بات تو یہ ہے کہ جیسے جیسے سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اس قمیص کی وجہ سے میرے اثاثہ جات میں بھی تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے۔‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ دتاپوگے سونے کی قمیص کے ساتھ سونے کی چین، کڑے، گھڑی اور انگوٹھیاں بھی ضرور پہنتے ہیں اور ان قیمتی لوازمات کی حفاظت کے لیے اُن کے ساتھ نجی محافظوں کی فوج ظفر موج ہمہ وقت رہتی ہے۔

گولڈ ٹوائلٹ پیپر رول:

اسے مضحکہ خیز اسراف ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ ایک گھریلو مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی نے ٹوائلٹ پیپر کا ایسا رول صارفین کے لیے متعارف کروایا ہے، جس کی سب سے اہم خاصیّت ہی یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر خالص سونا سے بنایا گیا اور اُس کی قیمت 1.3 ملین ڈالر (بیس کروڑ بانوے لاکھ روپے) ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سونے کے ٹوائلٹ رول بیچنے والی کمپنی یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ ’’حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق تیار کردہ ٹوائلٹ پیپر ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ تاہم، اس قیمتی ترین ٹوائلٹ پیپر کی حفاظت کی تمام تر ذمّے داری صارف ہی پر عائد ہوتی ہے۔ نیز، یہ سونے کا ٹوائلٹ پیپر کسی بھی عام ٹوائلٹ پیپر کی طرح مکمل طور پر ڈسپوزایبل یعنی صرف ایک بار استعمال کے لیے ہی بنایا گیا اور اسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ اس لحاظ سے ٹوائلٹ پیپر کے اس رول کی خریداری انتہائی منہگا، غیر دانش مندانہ اور گھاٹے کا سودا ہی قرار دیا جاسکتاہے۔ کیوں کہ سونے کی بیش تر اشیاء چاہے کتنی ہی عجیب و غریب اور غیرضروری کیوں نہ ہوں، انہیں بہرحال برسوں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دل چسپ بات تو یہ ہے کہ کمپنی نے ابتدائی طور پر خالص سونے سے تیارکردہ ٹوائلٹ پیپر کے صرف10 رول بنائے، جن میں سے 8 فروخت بھی ہوچکے ہیں۔
سونے کی کھلونا کار:بلاشبہ، ادویہ اور قیمتی اشیاء ہمیشہ بچّوں کی پہنچ سے دُور ہی رکھنی چاہئیں، کیوں کہ دواؤں سے بچّے خودکو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جب کہ قیمتی اشیاء بچّوں کے ہاتھوں گُم یا خراب ہوجانے کی صورت میں سخت معاشی نقصان پہنچ سکتاہے۔ لیکن شاید دنیا کی واقعی کوئی کَل سیدھی نہیں ہے۔ جب ہی تو ’’بگاٹی وییران ڈائمنڈ لمیٹڈ‘‘ نامی معروف کھلونا ساز کمپنی نے بچّوں کے لیے خالص سونے سے کھلونا کار بنادی ہے۔ جس کی مالیت 2.9 ملین ڈالر ہے، یعنی پاکستانی کرنسی میں یہ کھلونا کار چھیالیس کروڑ، سڑسٹھ لاکھ روپے میں دست یاب ہے۔ کمپنی ترجمان کے مطابق یہ کھلونا کار، دو وجوہ کی بناء پر اس قدر گراں قدر ہے۔ اوّل یہ کہ اسے بنانے میں تقریباً دو ماہ کاعرصہ لگا اور اس دوران فیکٹری میں کوئی دوسری مصنوعہ نہیں بنائی گئی اور تمام تر توجّہ، ہنرمندی اور دیدہ زیب دست کاری کے ساتھ اس کھلونے کی تیاری ہی پر مرکوز رکھی گئی۔ دوم، اس کھلونا کار میں خالص سونے کے ساتھ ساتھ بیش قیمت ہیرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ اگر آپ ارب پتی ہیں، تو اپنے بچّے کے لیے اس کھلونے کو خرید سکتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ سونے سے بنی بیش قیمت کھلونا کار آپ کا پیارا، راج دُلارا بچّہ کہیں گم کر بیٹھا، تو آپ کو نقصان بھی لاکھوں کا نہیں، کروڑوں کا برداشت کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیش ٹیگ کی ٹاپ ٹرینڈ کہانی

بلیک ڈائمنڈ آئی فون فائیو:

دو دہائی قبل موبائل فون، اسٹیٹس سمبل، یعنی اَمارت کے اظہار کا اہم ترین ذریعہ ہوا کرتا تھا اور یہ صرف متموّل افراد ہی کے ہاتھوں میں دکھائی دیا کرتا تھا، لیکن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے عام موبائل فون کے بعد اسمارٹ فون کو بھی ہر خاص وعام کی دسترس میں کرکے تیکنیکی کارکردگی اور سہولتوں کے اعتبار سے سب ہی کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا یہ کارنامہ عام افراد کے لیے تو ایک نعمت ہے، لیکن امراء کے لیے سخت زحمت بن گیا، کیوں کہ موبائل فون صارفین کا ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے، جسے صرف برانڈ سے سروکار ہوتا ہے، پھر چاہے اسمارٹ فون کی تیکنیکی سہولتیں کیسی بھی ہوں، قیمت کتنی بھی ہو، یہ طبقہ بس اپنی اَمارت کے اظہار کے لیے موبائل فون خریدناچاہتاہے۔ تاکہ سب سے الگ اور منفرد نظر آئے۔ صارفین کے ایسے طبقے کو اپنی جانب متوجّہ کرنے کے لیے موبائل فون کمپنیز خصوصی اسمارٹ فونز تیار کرتی ہیں،جن کی بنیادی خصوصیت اُن کا منہگا اور خوب صورت ہونا ہی ہوتا ہے۔ بلیک ڈائمنڈ آئی فون فائیو بھی ایک ایسا ہی گراں قدر اسمارٹ فون ہے، جسے ہانگ کانگ کی ایک کاروباری شخصیت کے لیے معروف صرافہ کمپنی Stuart Hughes نے خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ صرافہ کمپنی گراں قدر اشیاء بنانے میں عالمی شناخت رکھتی ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق اس کی تیاری میں 9ہفتے لگے۔ 24 قیراط خالص سونے سے بنائے گئے اس اسمارٹ فون میں ایک سو سے زائد قیمتی ہیرے اور چھے سو سے زائد دیگر بیش قیمت جواہرات بھی جَڑے ہیں۔ مگر اس فون کی اصل انفرادیت اس کی ہوم اسکرین میں لگا 26 قیراط کا ایک سیاہ ہیرا ہے، جو انتہائی قیمتی اور نادر بتایا جارہاہے۔ اِس فون کی رعایتی قیمت 15.3 ملین ڈالر رکھی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں صرف 2 ارب 46کروڑ25 لاکھ روپے بنتی ہے۔