Banzeer

بے نظیر بھٹو

EjazNews

قوموں کی زندگی میں بعض حادثات و واقعات ایسے رُونما ہوتے ہیں، جن کے نقوش تاریخ پر ہمیشہ کے لیےثبت ہو جاتے ہیں ۔یہ وقت کے دھندلکوں میں گم نہیں ہوتے،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اثرات اور مضرات مزیدنمایاں ہو تے جاتے ہیں۔آج سے 13سال قبل 27دسمبر 2007ء کوبھی ایسا ہی ایک سانحہ پیش آیا۔ راول پنڈی میں نیشنل پارک کے قریب بے نظیر بھٹو کے ٹرک کے قریب بم دھماکے اور فائرنگ کے ساتھ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں، تو مُلک میں ایک بھونچال سا آگیا ۔ ہر طرف آگ بھڑک اُٹھی۔ گرچہ پاکستان اس بحران سے جلد نکل آیا، لیکن انسانی جانوں اور املاک کی تباہی کی صُورت مُلک و قوم کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔بے نظیر بھٹوکا قتل صرف بھٹو خاندان ہی کے لیے نہیں، پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے بھی ایک بڑا صدمہ تھا، جس کے سیاسی اور سماجی اثرات آنے والے برسوں بلکہ آج تک محسوس کیے جا رہےہیں۔

’’بے نظیر بھٹو کےقتل کے اس المیے کے پسِ پردہ کون سی قوتیں کارفرما تھیں،اس سازش کے تانے بانے کہاں اور کس جگہبُنے گئے، اس میں کون کون ملوّث تھا؟‘‘یہ سوالات گزشتہ ایک دَہائی سے پاکستان کے ایوان ہائے اقتدار سے لے کر عام چائے خانوں تک میں آج بھی زیرِ بحث ہونے کے باوجود ایک لاینحل معمّا اور قیاس آرائیوں میں الجھا ہوا ایسا دھاگا ہے، جس کا سِرا کسی کے ہاتھ نہیں آیا۔ بظاہر مجرموں کو سزا ہو چکی اور رسمی طور پر یہ حادثہ داخلِ دفتر ہو چکا، لیکن اسرار و رموز کی تہہ میں لپٹے بعض سوالات آج بھی جواب طلب ہیں ۔بے نظیر بھٹو کے قتل کے محرّکات اور نتائج پر جتنا کچھ لکھا اور بولا گیا،اس سے کہیں زیادہ اُن کی زندگی اور ان کے کارہائے نمایاں زیرِ بحث رہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِاعظم اور 35سال کی عمر میں کسی مُلک کی چیف ایگزیکیٹو بننے والی سب سے کم عُمر خاتون تھیں ۔ بے نظیر کو بحالیٔ جمہوریت کے لیے جن مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا،انہیں بھی پوری دنیا کے مقتدر سیاسی اور سماجی حلقوں میںبہ نظرِ استحسان دیکھا گیا،ان کی زندگی کو اگر مختصر الفاظ میں سمیٹا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ’’ایک خاتون ہونے کے ناتے انہوں نے مشکلات، مسائل، خطرات،رکاوٹوں اور موت کی دھمکیوں کے باوجود ’’صنفِ نازک‘‘ کی بجائے ایک’’مردِ آہن‘‘کی طرح حالات کا مقابلہ کیا،خاندان میں بھی ایک کے بعد ایک صدمہ دیکھا،لیکنان کے پائےثبات میں لغزش نہ آ ئی۔‘‘اپنی والدہ، نصرت بھٹو کی خون آلود پیشانی کے ساتھ حکمرانوں کو للکارتی ہوئی ان کی تصویر آج بھی آمریت کے خلاف ان کی جدّوجہد کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے۔

ہر ہرقدم پر چیلنجز کا سامنا

21جون1953ءکو کراچی میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو،جنہیں ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو پیار سے’’پنکی‘‘کہتے تھے، شروع ہی سے بہت ایکٹیواور ذہین تھیں۔ لیڈی جیننگ نرسری اسکول، کراچی سے تعلیم و تربیت کا آغا ز ہوا۔ اُ س کے بعد جیسیز اینڈ میری کا نونٹ ، مَری سے او لیولز کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کرکے ریڈ کلف کالج، ہار ورڈ یو نی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ جہاں ابتداً انہیں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں ایک سال بعد اُن کے چھوٹے بھائی مرتضیٰ بھٹو کا بھی وہیں داخلہ ہو گیا۔ سیکنڈ گریجویٹ ڈگری کے لیے بے نظیر نے بر طانیہ کے لیڈی مار گریٹ ہال، یونی ورسٹی آف آکسفورڈ میں ایڈ میشن لیا، جب کہ اپنے والد کی خواہش پر سینٹ کیتھرائن کالج آکسفورڈ سے انٹرنیشنل لا اینڈ ڈپلومیسی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ وہ جب امریکی یونی وَرسٹی، ہارورڈ اور پھر برطانیہ کی آکسفورڈ یونی وَرسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے گئیں، تو وہاں بھی اپنیذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ آکسفورڈ یونی وَرسٹی میں یونین کا صدر منتخب ہونا ان کا ایک نمایاں کارنامہ تھا ۔ پاکستان واپسی پر، جب ان کے والدمُلک کے وزیر ِاعظم منتخب ہو چُکے تھے،بے نظیر نے سیاست کے اسرارورموز سے مزید شناسائی حاصل کی۔ جب ذوالفقار علی بھٹوکی حکومت کا تختہ اُلٹ کر انہیں موت کی سزا سنائی گئی، تو بحیثیت پارٹی چیئر مین،بے نظیر نے اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ جن مشکلات اور قیدوبند کی صعوبتوں کا سامنا کیا ، وہ صرف انہی کا ظرف اور صبر ہے کہ مشکلات نے بے نظیر کی قائدانہ صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا۔ وہ ایک آمر کے آگے ہار نہیں مانیں، بلکہ صدائے حق بلند کرتی رہیں ۔ان کی جدّوجہد اس وقت رنگ لائی،جب وہ1988ء میں مُلک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم منتخب ہوئیں، واضح رہے کہ وہ دو بار وزیرِ اعظم کے عُہدے پر فائز ہوئیں، مگر بد قسمتی سے انہیں 1996ء میں اقتدار سے محروم ہوکر جلاوطنی کاختیار کرکے برطانیہ جانا پڑا ۔ 1987ء میںبے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی، جن سے ان کے تین بچّے، بلاول، بختاور اور آصفہ ہیں ۔ لندن میں قیام کے دوران بچّے بھی ان کے ساتھ ہی قیام پذیر تھے، جب کہ ان کے شوہر، آصف علی زرداری پاکستان میں پابندِ سلاسل تھے۔ وہ 8سال لندن میں مقیم رہیںاور اسی دوران انہوں نے دو کتابیں،’’ Daughter of destiny‘‘اور’’ Democracy is the best revenge‘‘لکھیں۔پھر پرویز مشرف نے این آر او کے تحت پاکستان واپس آنے کی دعوت دی، تو وہ 2008ءکے انتخابات میںحصّہ لینے کے لیے پاکستان آگئیں، لیکن یہاں آتے ہی انہیں لیاقت باغ کے نزدیک کارساز پرٹرک میں بم دھماکے کی صورت ایک بہت بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑا، جس میں 180افراد جاں بحق ہو ئے، مگر وہ محفوظ رہیں۔البتہ، قسمت نے انہیں 2008ءکے انتخابات میں حصّہلینے کی مہلت نہ دی اور وہ انتخابات سے قبل ہی 27 دسمبر 2007ء کوایک قاتلانہ حملے میں شہید کر دی گئیں۔یوں ان کی 53سالہ مصائب، مشکلات، عزم وہمّت اور مثبت و منفی متضاد آرا سے بھرپور زندگی اپنے اختتام کو پہنچی، لیکن ان کی حیاتِ پُرخارسیاست، معاشرت اور قیادت پر جو گہرےنقوش چھوڑ گئی، اُسے زمانے کی گرد کبھی مٹانہیں سکے گی۔انہوں نے سیاست میں جدّوجہد پامردگی اور عزم و حوصلے کی جو روایات بھٹو خاندان کو منتقل کی ہیں، وہ اب ان کے بعد آنے والوں کے لیےمشعلِ راہ ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  خودکشی کے رجحانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے…

انسان کے خیالات و افکار،اس کی زندگی کا آئینہ دار ہوتے ہیں،بے نظیر بھٹو نے مختلف مواقع اور اپنی کتابوں میں جن خیالات کا اظہار کیا ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے ۔

٭’’مَیں نے ایک غیر معمولی زندگی گزاری ہے، اپنے والد کو سپردِ خاک کیا، جن کی عُمر اُس وقت صرف 50برس تھی۔ مَیں نے اپنے دو بھائیوں کو کھویا، جو جوانی کی عُمرمیں تھے،مَیں نے اکیلی ماں کی حیثیت سے اپنے بچّوں کی پرورش کی ۔ اس شوہر کے بغیر جسے، 8سال جیل بناکسی جرم کے،صرف میرے سیاسی کیریئر کو یرغمال بنانے کےلیے قید رکھا گیا۔‘‘

٭’’مَیں موت سے نہیں ڈرتی۔ مجھے اپنے والد کے ساتھ آخری ملاقات یاد ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا ’’کیا آپ جانتی ہیں، جب مجھے سزائے موت دی جائے گی تو اگلے جہان میں میری ماں اور میرا باپ میرا انتظار کر رہے ہوں گے،لیکن مَیں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ کوئی کام خدا کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  کیا پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان رسہ کشی ہونے والی ہے؟

٭میرے والد ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ’’ میری بیٹی سیاست کے میدان میں قدم رکھے گی، میری بیٹی وزیرِاعظم بنے گی‘‘،لیکن مَیںیہ بننا نہیں چاہتی تھی اور میں بھی انہیں ہمیشہ کہتی کہ’’پاپا!مَیں سیاست میں نہیں جائوں گی‘‘جیسا کہمَیں اکثر کہتی ہوں،مَیں نے اس زندگی کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ زندگی نے مجھے اس کے لیے چُنا ہے، لیکن جب مجھ پر یہ ذمّے داری عائد ہوئی، تو مَیں نے اسے قبول کیا اور ذمّے داریوں سے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔‘‘

٭مَیں بچپن میں بہت شرمیلی اور تنہائی پسند تھی، لیکن جب ہارورڈ اور آکسفورڈ یونی وَرسٹیز میں گئی، تو اچانک مَیں نے عوام کی طاقت دیکھی، جس کا پہلے مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ لوگ اپنے صدر پر تنقید کر رہے ہیں، اگر آپ پاکستان میں ایسا کریں،تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے ۔‘‘

٭تم ایک شخص کو قید کر سکتے ہو، اسے جِلاوطن کرسکتے ہو، اسے قتل کر سکتے ہو،لیکن اس کے نظریے کو ختم نہیں کر سکتے۔‘‘
٭اسلام،رنگ و نسل،ناانصافی اور عورتوں سے امتیازی سلوک کے خلاف ہے ۔اس کا واحدمعیار تقویٰ ہے،جس سے نوعِ انسانی کو جانچا جا سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  تعلیم کیا ہوتی ہے؟

٭’’جمہوریت کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے بہترین سپورٹ دوسری جمہوریتوں سے مل سکتی ہے،جمہوری اقوام کو آگے آکر ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘

٭’’دہشت گرد قوتوں کو شکست دینے کے لیے جمہوریت لازمی ہے ۔‘‘
٭’’مَیں ایسی دنیا کا خواب دیکھ رہی ہوں، جہاں انسانی وسائل کو انسان ترقّی کے لیے استعمال کر سکیں، نہ کہ اس کی تباہی کے لیے۔‘‘
٭’’انتہا پسندی صرف ایسے ماحول میں پنپتی ہے، جہاں حکومت عوام کی فلاح وبہبود کے حوالے سے اپنی بنیادی ذمّے داریاں فراموش کر دے۔‘‘
٭’’اگر آپ امن چاہتے ہیں،تو پھر آپ کو اپنے ذاتی مفادات،ضروریات اور جذبات سے بلند ہو کر سوچنا ہو گا۔‘‘
٭’’بہترین حجاب اور پردہ آنکھوں میں ہوتا ہے۔‘‘
٭’’اگرچہ خاتون ہونے کی حیثیت سے میں سمجھتی ہوں کہ میں ایک مختلف لیڈر ہوں، مجھے خواتین کے مسائل میں زیادہ دلچسپی ہے، لیکن جب میں ایک خاتون کی حیثیت سے سیاست میں داخل ہوئی، تواس میں ایک اور عنصر بھی داخل ہو گیا اور وہ ہے،ماں کی مامتاکا۔‘‘
٭’’مجھے پکّا یقین ہے کہ اشرف المخلوقات ہونے کی حیثیت سے انسان اچھائی کا نام ہے، لیکن جب مَیںانسانوں کو بُرے کام کرتے دیکھتی ہوں، تو میرا دل اندر سے دہل جاتا ہے۔‘‘
٭’’مَیں سمجھتی ہوں کہ ایک سیاسی جماعت صرف چند لوگوں کے گروہ کا نام نہیں، بلکہ یہ آنے و الی نسلوں کے لیے ایک لائحہ عمل بھی دیتی ہے۔‘‘
٭’’کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم بنی نوع ا نسان ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے ایک مشترکہ دشمن کے خلاف نبردآزما ہوں ۔‘‘
٭مُلک کی سالمیت واستحکام کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ عوام کو کتنی طاقت دیتے ہیں اور سیاسی اداروں کو کتنا مستحکم کرتے ہیں۔‘‘
٭پاکستان کا مستقبل عوام کی طاقت اور سیاسی اداروں کے استحکام میں مضمر ہے۔میرا مقصد یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک نسل کی بہتری کے لیے دل ودماغ کی جنگ صرف اس صُورت جیتی جاسکتی ہے، جب مُلک میں جمہوریت ہو۔‘‘
٭’’ہم کسی کے لیے اچھا سوچتے ہیں،تو اس کا نتیجہ بھی اچھا ہی نکلتا ہے ۔‘‘
٭’’زندگی کبھی پُرسکون یا مستحکم نہیں ہوتی، کیوں کہ ہر لمحہ نئے نئے چیلنجز آپ کے سامنے موجود ہوتے ہیں،جن سے آپ کو لڑنا ہوتا ہے۔‘‘
٭’’وہ چاہے مجھے قتل کرنے کی کوشش کریں،لیکن مَیںنے اپنی فیملی اور چاہنے والوں کو تیار کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے نپٹنے کے لیے تیار رہیں ۔‘‘
٭’’موت کی دھمکیوں کے باوجود مَیں ہار نہیں مانوں گی، بلکہ ان منفی قوّتوں کے خلاف لڑوں گی۔‘‘
٭مَیں نے ڈیتھ سیل میں اپنے والد سے وعدہ کیا تھاکہ مَیں ان کا مِشن جاری رکھوں گی۔‘‘
٭’’میری موت دُوررس تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔‘‘