children rights

اولاد کے حقوق

EjazNews

’’اولاد‘‘ اللہ کی وہ بیش بہا نعمت ہے کہ جس کے بغیر زندگی کا تصوّر ادھورا، خوشیاں نامکمل ہیں۔ اولاد، والدین کی آنکھ کا نور، دل کی دھڑکن، کلیجے کی ٹھنڈک، روح کا سرور، زندگی کا محور،تمنّائوں، امیدوں کا مرکز، بہاروں کا پیغام، رزق میں برکت کا ذریعہ اورصدقۂ جاریہ ہے۔ ماں کی گود، اولاد کی پہلی تربیت گاہ ہے،تو باپ کا وجودایک تناور گھنیرا، چھتنار سایا۔ والدین اپنے آنگن کے پھولوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی جدوجہد میں گویااپنا سب کچھ ان پر نچھاور کردیتے ہیں۔ انہیں زندگی کے گرم و سرد سے بچاتے ہوئے اپنی تمام خوشیاںان کے قدموں میں ڈھیر کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور پھر اپنی جہدِ مسلسل سے جب وہ ایک نازک پودے کو توانا درخت کی صورت ڈھال لیتے ہیں، تب خود ان کا چہرہ اور ہاتھ جھرّیوں سے بھرچکے ہوتے ہیں، جسم لاغرہوجاتا ہے، کمر جھکنے لگتی ہے۔ جوانی زندگی کے طویل سفر کی بھول بھلیّوں میں کہیں بہت دوررہ جاتی ہے۔ ایسے میں والدین بڑی امیدوں، آرزوئوں اور حسرت بھری نظروں سے اپنی جوان اولاد کی طرف دیکھتے ہیں کہ اب یہی تو ان کے بڑھاپے کا سہارا ہیں۔ نیک اولاد آگے بڑھ کر والدین کے کم زور اور ناتواں ہاتھوں کو تھام کرجنّت کی حق دار ہوجاتی ہے، جب کہ بدنصیب اولاد، ان کے کانپتے، لرزتے وجود اور نم ناک نگاہوں کو نظرانداز کرکے اپنے لیے دوزخ کے دروازے کھول لیتی ہے۔ بلاشبہ، نیک اولاد، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ والدین، جنہیں اللہ تعالیٰ نے نیک، فرماں بردار اولاد کی نعمت سے نوازا۔

امام الانبیاء، سرکارِ دوعالم، سرورِکائنات، فخرِ موجودات، سیّد المرسلین، خاتم النبیین، رحمتہ لّلعالمین، سرورِ کونین، رسولِ ثقلین، ساقیِ کوثر، شافعِ محشر، حضرت محمدﷺ بچّوں سے بہت زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب بچّیوں کو قتل کرنے کا مکروہ اور گھنائونا فعل، دنیابھر میں جاری تھا۔ آپؐ نے اس کی سختی سے مذمت فرماتے ہوئے اسے’’ گناہِ کبیرہ‘‘ قرار دیا۔ ایک دن ایک شخص حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ’’یارسول اللہؐ! میں کس کے ساتھ نیکی کروں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ ’’اپنے والدین کے ساتھ۔‘‘ اس نے کہا ’’وہ تو فوت ہو چکے ہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’تو پھر اپنی اولاد کے ساتھ کرو، کیوں کہ جس طرح ماں باپ کے حقوق ہیں، اسی طرح اولاد کے بھی حقوق ہیں۔‘‘ دنیا کے دیگر مذاہب، والدین کے حقوق کی بات تو کرتے ہیں، لیکن اولاد کے حقوق پر کوئی بات نہیں کرتا۔ اسلام ہی وہ عالم گیرمذ ہب ہے کہ جس نے اولاد کے حقوق کو بڑی صراحت و وضاحت سے بیان کیا ہے اور ان حقوق کی ادائیگی کو والدین، خاندان، قوم اور ملّت کے لیے نہایت اہم قرار دیا ہے۔

نیک اولاد کے حصول کے لیے دعا:والدین کا فرض ہے کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے نیک اولاد کے حصول کے لیے دعائیں کرتے رہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’رحمٰن کے بندے وہ ہیں، جو یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ ’’اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔‘‘ (الفرقان۔74:25)۔ مذکورہ آیتِ مبارکہ میں حصولِ اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے التجا کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبروں نے بھی اللہ سے دعائیں کیں، جو بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہوئیں اور انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا گیا۔

اولاد کی جان کا تحفظ:ہربچّہ انسانی فطری تقاضوں کے تحت دنیا میں آتا ہے۔ اولاد کے سلسلۂ حیات کو منقطع کرنا یا مصنوعی طریقوں سے اسے روکنے کا کسی کو بھی حق ہے، نہ اجازت۔ زما نۂ قدیم میں دیوتائوں کی بھینٹ چڑھا کر اولاد کو مار ڈالنا ایک عام سی بات تھی، جب کہ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں بچّیوں کو زندہ دفن کر دینا بھی معمول تھا، لیکن شریعتِ اسلامی نے اولاد کو قتل کرنے کے تمام طریقوں کی سختی سے ممانعت کی اور ایسے والدین کو قتل کا مرتکب ٹھہرا کر دنیا میں بدترین سزا اور آخرت میں سخت عذاب کی وعید سنائی۔ قرآن کریم میں سورئہ انعام کی آیت137میں اللہ نے ایسے لوگوں کو شیطان کا پیروکار قرار دیا، جو اپنی اولاد کو بُتوں کے نام پر بے دردی سے ذبح کر دیتے تھے۔ اسی سورئہ مبارکہ میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ’’بے شک، وہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں، جنہوں نے اپنی اولاد کو محض براہِ حماقت، بلا کسی سند قتل کر ڈالا اور جو رزق انہیں دیا تھا، اللہ پر افترا باندھ کر اسے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا۔ بے شک، وہ گم راہی میں پڑگئے اور کبھی ہدایت پانے والے نہ ہوئے۔‘‘ سورئہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی اور یقیناً ان کا قتل، گناہِ کبیرہ ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ، توکل علی اللہ

اولاد کی پیدایش پر اظہارِ تشکّر:کسی بھی خاندان میں بچّے کی پیدایش باعثِ برکت ہوتی ہے۔ اولاد کا ہونا، خاندان کے لیے خوش بختی تصوّر کیا جاتا ہے۔ اولاد جیسی بے کراں نعمت کا دنیا میں آنا، اہلِ خانہ کے لیے نہایت خوشی اورمسّرت کا باعث ہوتا ہے۔ والدین کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نےانہیں اولاد جیسی نعمت سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ اولاد کی برکت سے رزق میں اضافہ اور والدین کو اجرِ عظیم عطا فرماتا ہے، خاص طور پر ماں کو، جو ایک صبرآزما، مشکل ترین اور تکلیف دہ مرحلے سے گزر کر بچّے کو جنم دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’یہ مال اور یہ اولاد تو دنیاوی زندگی کی (رونق) آرایش ہیں۔‘‘ (سورۃ الکہف۔46:18)۔ لہٰذا بچّے کی پیدایش پر اس کے والدین کو مبارک باد دیتے ہوئے بچّے کے نیک و صالح ہونے اور اس کی صحت و درازئ عمر کی دعا کرنی چاہیے۔

نومولودکےکان میں اذان دینا:اولاد کی پیدایش کے بعد اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان دی جائے، تاکہ بچہ اللہ اور اس کے پیارے محبوب ؐ کے نام اور شہادتِ توحید و رسالت سے آشنا ہو اوریہ محسوس کر سکے کہ وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے۔ حضرت حسن بن علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ’’جس کے گھر میں بچّہ پیدا ہو، تو وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے۔ اس طرح وہ بچّہ امّ الصبیان بیماری سے محفوظ رہے گا۔‘‘ (بیہقی)۔

بچّے کی پیدایش پر تحنیک:بچّے کے کان میں اذان دینے کے بعد اس کے منہ میں میٹھی چیز ڈالنا تحنیک کہلاتا ہے۔ یہ ہمارے پیارے نبیؐ کی بہت خوب صورت سنّت ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب نومولود بچّہ لایاجاتا، تو آپؐ اس کے لیے دعائے خیر فرماتے اور اس کی تحنیک کیا کرتے۔ (مسلم)۔تحنیک کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھجور چبا کر نومولود کے منہ میں انگلی کے ساتھ تالو پر لگا دی جائے، لیکن اگر کھجور موجود نہ ہو، تو کسی بھی میٹھی چیز یعنی شہد، چینی یا جنم گھٹّی سے بھی تحنیک کی جا سکتی ہے۔ حضرت اسماءؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب عبداللہ بن زبیرؓ پیدا ہوئے، تو حضورؐ نے انہیں گود میں لیا، پھر خُرما منگوا کر اسے چبایا، اپنا لعاب دہن بچّے کے مُنہ میں ڈالا اور خُرما تالو میں مَلا پھر خیر و برکت کی دُعا دی۔ خاندان کے بزرگوں سے تحنیک کرانا مسنون عمل ہے۔

بچّے کا سر منڈوانا اور نام رکھنا:حضرت یحییٰ بن بکیر حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمؐ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی پیدایش کے ساتویں دن ان کا سر منڈوانے کا حکم دیا، چناں چہ ان کا سر منڈوا دیا گیا اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی گئی۔ لہٰذا بچّے کی پیدایش کے ساتویں دن اس کے بال منڈوا دینے چاہئیں۔ آج کے جدید دور میں طبّی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچّوں کے سر منڈوانے کا یہ اقدام نومولود بچّوں کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔ اس سے بچّوں کی نگاہ، سماعت اور سونگھنے کی قوّت میں اضافہ ہوتا ہے، دماغی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، جب کہ بچّوں کے بالوں کے برابر چاندی کا صدقہ، غریب، غرباء اور حاجت مندوں کی ضروریات پوری کرنے کا باعث بنتا ہے۔ بچّوں کے نام رکھتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ان کے معنی اچھے اور مثبت ہوں، نام کے اوصاف کا انسان کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امّت کو تاکید فرمائی کہ ’’اپنے بچّوں کے اچھے نام رکھو۔‘‘

تعلیم و تربیت:اولاد کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود، جب کہ باپ کا وجود، درس و تدریس کا پہلا ستون ہے،ان ہی کی ہدایت، رہنمائی، شفقت اور محبت کی چھتری تلے مکمل دینی ماحول کی فضا میں نوخیزنسل کے رجحانات، مزاج اور شخصیت کی تکمیل کے ابتدائی مراحل طے ہوتے ہیں۔ بعد ازاں، ان ہی بنیادوں پر ان کی شخصیت کی عمارت مکمل ہوکر ایک باشعور، باوقار انسان کا وجود عمل میں آتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق، بچّے کی زندگی کے ابتدائی سات برس اس کی شخصیت کی تکمیل میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ اس کی شخصی عمارت کی بنیادوں کی تکمیل کا وقت ہوتا ہے، اسی لیے اس دورانیے کو بچّوں کے لیے سب سے اہم وقت قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ’’تمہاری اولاد جب سات سال کی ہوجائے، تو انہیں نماز کا حکم دو اور جب دس سال کی ہوجائے، تو سختی کرکے نماز پڑھائو۔‘‘ (مسندِاحمد،ابو دائود، حاکم)۔ حضرت سعید بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’کسی باپ نے اپنی اولاد کو حسنِ ادب سے بہتر تحفہ نہیں دیا۔‘‘ (ترمذی) یعنی باپ کی طرف سے اولاد کے لیے سب سے عمدہ تحفہ، اچھی تربیت، اعلیٰ اخلاق، شائستگی اور عمدہ سیرت ہے۔ اولاد کا یہ حق ہے کہ اس کے والدین اسے دینی علم اور دنیاوی علم و فن یعنی دونوں طرح کی تعلیم کے مواقع فراہم کریں۔ دینی علم کے ساتھ دنیاوی علم و فن اس کی دنیاوی زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔بچّے کی بہترین تربیت کے سلسلے میں ایک بات والدین کے ذہن میں ہمیشہ رہنی چاہیے کہ بچّے کو اچھا بنانے کے لیے پہلے خود کو اچھا بنائیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ خود تو بری عادتوں میں مبتلا ہیں، جنہیںبچہ دیکھ اور سن بھی رہا ہے اور آپ یہ توقع کریں کہ میرا بچّہ اچھا انسان بن جائے، لہٰذا ضروری ہے کہ والدین پہلے خود اچھے انسان بنیں۔ عمدہ تعلیم و تربیت سے آراستہ نیک اولاد،د زندگی میں والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور موت کے بعد بخشش کا ذریعہ بنتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور عمدہ گھریلو تربیت، نہ صرف انسانی زندگی کو سنوارتی، نکھارتی،والدین اور خاندان کے وقار کو بلند کرتی،بلکہ معاشرے میں نیک نامی کا باعث بھی بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں یتیموں کی پرورش کا تصور

اولاد سے شفقت و محبت:اولاد کا والدین پر یہ حق ہے کہ وہ اس کے ساتھ شفقت و محبت کا رویہ رکھیں۔بلاشبہ، والدین کے لیے اولاد سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں، یہی ان کی امیدوں کا مرکز، ان کی زندگی بھر کی پونجی، ان کے بڑھاپے کا سہارا اور بعد از وفات دعائے مغفرت و استغفار، صدقات، خیرات اور بخششوں کے تحفوں کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ بچپن میں اولاد کو قدم قدم پر والدین کے سہارے اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے میں والدین کا پیار و محبت سے لبریز شفقت بھرا برتائو، بچّوں میں مثبت ذہنی سوچ کے پروان چڑھنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بچّوں کے پاس سے گزرتے، تو ان کے سامنے خوشی و مسّرت کا اظہار کرتے اور انہیں سلام کرتے۔ (بخاری، مسلم)۔آپؐ نے فرمایا کہ ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں، جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا حق نہ پہچانے۔‘‘ (ترمذی، مسندِاحمد)۔حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت اقرع بن حابسؓ نے دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت حسنؓ کو شفقت سے چوم رہے ہیں۔ حضرت اقرعؓ نے کہا کہ میرے دس بیٹے ہیں، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی کبھی نہیں چوما۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ جو دوسروں کے ساتھ رحم کا برتائو نہیں کرتا، اس کے ساتھ بھی رحم کا معاملہ نہیں کیا جاتا۔‘‘ (بخاری، مسلم)۔امّ المومنین، حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ’’ کچھ لوگ، رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورپوچھا کہ ’’کیا آپؐ بچّوں کو چومتے ہیں؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’ہاں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’خدا کی قسم ہم تو نہیں چومتے۔‘‘ اس پر حضورؐ نے فرمایا ’’اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال لیا ہو، تو میں کیا کر سکتا ہوں۔‘‘( بخاری، مسلم)۔امّ المومنین، حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ’’جگر ِگوشۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت فاطمۃ الزہراءؓ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں، تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے، ان کی پیشانی کا بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب حضورؐ، حضرت فاطمہؓ کے پاس تشریف لے جاتے، تو وہ آپ کے لیے کھڑی ہو جاتیں، آپ کا ہاتھ پکڑتیں، آپ کا استقبال کرتیں، ادب و احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جگہ بٹھاتیں۔‘‘ (بخاری، مسلم)۔اولاد پر شفقت و محبت اور پیار کے بیش بہا خزینوں کو نچھاور کرنے کے باوجود والدین کی ذمّے داری ہے کہ بے جا لاڈ پیار اور ہر جائز و ناجائز فرمائش اور بات بے بات پر ضد اور لایعنی خواہشات پوری کرنے سے اجتناب برتیں۔ بہترین تربیتی مراحل میں میانہ روی قائم رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اس مرحلے میں والدین کی ذمّے داری ہے کہ وہ بچّوں اور خصوصاً لڑکوں کی سرگرمیوں اوران کے دوستوں سے تعلقات پر گہری نظر رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سخاوت اور مہمان نوازی

اولاد کے درمیان عدل و انصاف: والدین کے لیے یہ بات قطعی مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد کے درمیان تفریق کریں۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوںکے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جائے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’اے لوگو! اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کرو۔‘‘ آپؐ نے اولاد کے درمیان عدم مساوات کو سخت ناپسند کیا اور اس کی حوصلہ شکنی فرمائی۔ ایک اور جگہ حضرت نعمان بن بشیرؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے اپنے مال میں سے کچھ حصّہ میرے نام ہبہ کر دیا، اس پر میری ماں نے کہا کہ مَیں اس پر اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ہبہ پر گواہ نہ بنا لیں۔ میرے والد حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو حضورؐ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی تمام اولادکو اسی طرح دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا۔ نہیں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ ’’خدا سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔‘‘ پس میرے والد لوٹ آئے اور اپنا ہبہ واپس لے لیا۔‘‘ (صحیح مسلم)۔

حقِ وراثت:شریعت نے ترکے کی وراثت میں تمام اولاد کو حصّے دار بنایا ہے۔ قرآن کریم کی سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں بڑے واضح احکامات فرما کر ہر ایک کا حصّہ مقرر کرتے ہوئے تاکید فرما دی ہے کہ اس پر عمل کرنا تم پر فرض ہے اور اگر اس میں کوتاہی کرو گے، تو گناہ کے مرتکب ہو گے۔ دنیا کے اکثر مذاہب نے لڑکی کو باپ کے ترکے سے محروم رکھا ہے، جب کہ بعض اقوام و مذاہب نے صرف بڑے لڑکے ہی کو وَرثہ کا حق دار قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے سب بچّوں کو ترکے کا حق دار بنایا ہے۔ شریعتِ اسلامی نے کسی بھی شخص کو اس بات کی بھی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے مال کے 3/1حصّےسے زیادہ کی وصیت کرے۔ اسی طرح اللہ کے رسولؐ نے اپنے سارے ترکے کو خدا کی راہ میں دینے کی وصیّت سے بھی منع فرمایا ،البتہ اپنے مال کے تیسرے حصّے کی وصیّت کی جاسکتی ہے۔حضرت عامر بن سعدؓ بیا ن کرتے ہیں کہ’’ ایک روزمیں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، میرے پاس جو مال ہے، کیا میں اسے (خدا کی راہ میں) وصیّت کر دوں؟آپؐ نے فرمایا کہ نہیں، (ایسا نہ کرو)۔ میں نے عرض کیا پھر نصف مال کر دوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے عرض کیا، تیسرے حصّےکی وصیّت کردوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں، تیسرے حصّے کی وصیّت کر سکتے ہو، اگرچہ یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر حضورؐ نے فرمایا کہ اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑ جانا، اس سے بہتر ہے کہ انہیں تنگ دست چھوڑا جائے، اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘ (بخاری)۔

اولاد کے لیے دعا:اولاد کا ایک حق یہ بھی ہے کہ والدین ان کے لیے دعا کرتے رہیں۔ والدین کی دعائیں اولاد کے لیے تیربہ ہدف ہوتی ہیں، جو ان کی درازئ عمر، صحت وتن درستی، ترقی و کامرانی، کشادگیِ رزق اور سلامتی کا باعث بنتی ہیں۔ جو اپنی بیوی، بچّوں کے لیے دعائے خیر کرتے رہتے ہیں، ان کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ’’اور (جنّت کے مستحق وہ بھی ہیں) جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار، ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عنایت فرما۔‘‘ (سورۃالفرقان۔ 74:25)۔والدین کی دعائیں، بچّوں کے سَروں پر سایہ فگن رہیں، تو ان کے دین و دنیا سدھارنے اور راہِ راست پر لانے کا باعث بنتی ہیں۔ انہیں ہر طرح کے دنیاوی سرد و گرم سے محفوظ رکھتی ہیں۔