گردے

گردوں کی پیوند کاری

EjazNews

عام طورپر انسانی جسم میں دو گُردے ہوتےہیں۔ تاہم، بعض افراد کا پیدایشی طور پر ایک گُردہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور وہ ایک گُردے کے ساتھ بھی مکمل طورپر صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ بہرحال، ایک صحت مند فرد کے گُردے نہ صرف ہر روز کئی ہزار فاسد مادّوں کا اخراج کرتے ہیں، بلکہ جسم کا کیمیائی توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نیز، بُلند فشارِ خون پر کنٹرول، خون کے سُرخ جسیموں کی تخلیق اور کیلشیم کی مقدار کی درستی کے سبب ہڈیوں کی مضبوطی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے ان کے افعال میں کوئی گڑبڑ واقع ہوجائے، تو یہ کسی مرض یا پھر خرابیٔ گردہ کی وجہ بن سکتی ہے۔ جب کہ بعض ایسے امراض بھی ہیں، جن کے مضر اثرات گُردوں کو متاثر کردیتےہیں۔ یاد رہے، اگر ایک گُردہ مکمل طور پر خراب بھی ہوجائے، تو اس کے حصّے کا کام دوسرا گُردہ انجام دے سکتا ہے۔ اسی طرح دونوں گُردوں کے کسی حد تک متاثر ہونے کی صورت میں بھی، اگرچہ ان کی کارکردگی میں تو فرق پڑتا ہے، لیکن کام کا تسلسل نہیں ٹوٹتا، ہاں اگر گُردے اس حد تک ناکارہ ہوجائیں کہ جسم کے فاسد مادّوں کا اخراج ہی نہ کرسکیں، تو یہ مادّے خون میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ گُردوں کی کارکردگی اس نہج پر پہنچ جاتی ہے کہ بالآخر خون کو مصنوعی طریقے سےصاف کرنا پڑتا ہے اور یہ عمل ڈائی لیسسز کہلاتا ہے۔ ڈائی لیسسز کے ذریعے خون میں یوریا کا لیول معمول پر لانے اور غیر ضروری اجزا کے اخراج کا کام لیا جاتا ہے۔ا ور یہ عمل ہفتے میں تین بار چار چار گھنٹے کے لیے دہرایا جاتا ہے۔ یہ انتہائی مہنگا طریقۂ علاج ہے، جس کی سہولت بھی ہر اسپتال میں موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مریض جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بغیر بیمار ہوئے طبی معائنہ کیوں ضروری ہے

علاج کے ضمن میں ایک دیرپا اور مؤثر علاج گُردے کی پیوند کاری بھی ہے۔ اس طریقۂ علاج کے بعد چند مخصوص ادویہ مریض کو تاحیات استعمال کرنی پڑتی ہیں، لیکن مریض کو نہ تو مشین سے منسلک ہوکر خون صاف کروانا پڑتا ہے اور نہ ہی غذا، پانی اور دیگر مشروبات کے استعمال میں احتیاط برتنا پڑتی ہے۔ گُردوں کی پیوند کاری دو طریقوں سے کی جاتی ہے۔ اوّل مریض کے ایسے رشتے دار سے گُردہ لینا، جو طبّی اعتبار سے صحت مند ہو۔ دوم، کسی فرد کے مرنے کے بعد اس کا گُردہ مل جانا، جو ’’بعد از مرگ عطیہ‘‘ کہلاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل تک اس حوالے سے باقاعدہ طورپر کوئی قانون موجود نہیں تھا، لیکن سال ہا سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر2007ء میں اعضاء و جوارح کے ٹرانس پلانٹ کا ایک آرڈینس پاس ہوا اور پھر 2010ء میں یہ قانون مُلک بَھر میں نافذ بھی ہوگیا۔ جس کے مطابق زندہ افراد سے گُردہ صرف اسی صورت لیا جاسکتا ہے کہ وہ مریض کا قریبی رشتے دار ہو، جس کی باقاعدہ طور پر ہیومن آرگن ٹرانس پلانٹ اتھارٹی کے نام زد کردہ نمائندگان ہی تصدیق کرتے ہیں۔ مجّوزہ قانون کے مطابق اگر رشتے دار قریبی نہ ہو اور معاوضے کے عوض گُردہ فروخت کرنا چاہے، تو یہ جُرم کے زمرے میں آئے گا۔ اس قانون کی زیادہ ضرورت اس لیے بھی محسوس ہوئی کہ پاکستان گُردوں کی تجارت کا باقاعدہ گڑھ بنتا جارہا تھا۔ دنیا بَھر کے ناکارہ گُردوں کے مریضوں کو یہاں خوش آمدید کہا جاتا اور پھر غیر قانونی طور پر گُردوں کی پیوند کاری کی جاتی۔ اگرچہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ تاہم، قانون پاس ہوجانے کے بعد کسی حد تک کمی ضرور آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑھتی ہوئی عمر کو سیاپا نہ بنائیں، اپنی صحت کا خیال رکھیں

چوں کہ قریبی رشتے دار سے گُردہ لینا بھی، ہر مریض کے لیے بوجوہ ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ “Deceased Organ Donation” کو فروغ دیا جائے۔ واضح رہے کہ یہ ڈونر صرف گُردے ہی نہیں، جگر، پھیپھڑے، دِل، لبلبلہ، آنتیں اور قرنیہ وغیرہ بھی عطیہ کرسکتے ہیں۔ معاشرے کے ایسے افراد جو مرنے کے بعد اپنے اعضاء کسی مریض کی جان بچانے کے لیے عطیہ کرنے کے خواہش مند ہیں، اُنہیں چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اہلِ خانہ یا قریبی رشتے داروں کو آگاہ کریں، تاکہ خدانخواستہ اگر وہ کسی حادثے یا مرض کے سبب وینٹی لیٹر پر چلے جائیں اور ان کی موت واقعے ہوجائے، تو ان کے اہلِ خانہ اعضا ءکے عطیہ کی کارروائی میں معاون ثابت ہوسکیں۔ کیوں کہ کوئی بھی معالج ورثاء کی اجازت کے بغیر کسی صورت مرنے والے کے اعضاء نہیں نکال سکتا۔ پھر بعد از مرگ عطیہ کے خواہش مند افراد کو ایک ڈونر کارڈ بھی بَھرنا ہوتا ہے، جس میں اعضاء کے عطیے کے حوالے سے معلومات درج ہوتی ہیں۔ یہ کارڈ ڈونر کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھنا چاہیے، تاکہ اگر وہ کسی ایمرجینسی کی صورت میں اسپتال لایا جائے، تو اس کے پاس سے برآمد ہونے والے کارڈ سے اسپتال کا عملہ بھی الرٹ ہوجائے۔ ایک تصوّر یہ بھی موجود ہے کہ اگر موت و زندگی کی جنگ لڑنے والے مریض کے پاس سے ڈونر کارڈ برآمد ہوجائے، تو معالجین اس کی جان بچانے کی بجائے، اعضاء نکالنے کی تیاری کرنے لگتے ہیں، تو ایسا ہرگز نہیں ہے، کیوں کہ ایک معالج کے لیے مریض کی جان بچانا ہی سب سے اہم فریضہ ہے۔ پھر کئی ذہنوں میں یہ سوال بھی گردش کرتا ہے کہ یہ طریقۂ کار دینی نقطۂ نگاہ سے جائز بھی ہے یا نہیں، تو اس ضمن میں دنیا بَھر کے تمام بڑے مذاہب کے ساتھ خاص طور پر دینِ اسلام نے بھی اس کی اجازت دی ہے اور تمام اسلامی مُمالک میں، بشمول سعودی عرب، بعد از مرگ عطیۂ اعضاء کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ اسی حوالے سے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) تین دہائیوں سے ہر سطح تک بعد از مرگ عطیۂ اعضاء سے متعلق معلومات عام کرنے کی کوشش میں سرگرمِ عمل ہے، تاکہ وہ مریض، جو پیوند کاری کے منتظر ہیں، اُن کی جان بچائی جاسکے۔ اس حوالے سے ادارے کی ویب سائٹ “www.siut.org”پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کان کے مسائل :بروقت علاج سے بہتری ممکن ہے