children abuse

بچوں کو آخر کہاں چھپائیں؟

EjazNews

قصور کے ایک نواحی قصبے کے 65سالہ بزرگ، قاری محمّد رمضان کا نمازِ فجر کی ادائی کے بعد قبرستان جانا معمول ہے۔ اُنھیں اس شہرِ خموشاں سے اِس لیے اتنا لگائو ہے کہ یہاں اُن کا 9سالہ بیٹا، فیضان محوِ استراحت ہے۔ وہ اُس کی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں اور کچھ دیر اپنے نوعُمر بیٹے کی یادوں میں بسر کرنے کے بعد بوجھل قدموں سے گھر لَوٹ آتے ہیں۔ اُن کی اہلیہ کو تاخیر کا سبب پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ غم زدہ چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا لیتی ہیں کہ کہاں سے آ رہے ہیں۔9 سالہ فیضان کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور اُس کی تشدّد زدہ لاش ایک ویرانے سے ملی تھی، جس کے ساتھ والدین کی دنیا بھی ویران ہو گئی۔ فیضان کی لاش کے ساتھ دو اور انسانی لاشوں کی باقیات بھی ملیں، جنہیں بعدازاں مائوں نے کپڑوں سے اپنے لختِ جگر کے طور پر پہچانا۔ پونے چار لاکھ آبادی کے شہر، قصور کے اِس قبرستان کا رُخ کرنے والا وہ واحد غم زہ باپ نہیں۔شہر اور نواحی بستیوں کے کئی قبرستان ایسے ہی بچّوں کا مدفن ہیں، جنہیں جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ وہ غنچے ہیں، جو بِن کِھلے مُرجھا گئے۔ قصور میں ہونے والی بہیمانہ وارداتیں نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنیں، بلکہ خود اندورنِ مُلک بھی سوالات اُٹھائے جانے لگے کہ اسلام کی سربلندی کے نام پر قائم ہونے والا مُلک آخر کس سیاہ راہ پر گام زن ہے؟ اور یہ کیسی خوف ناک آندھی چل پڑی ہے کہ اخلاقی اقدار خس و خاشاک کی طرح بہہ رہی ہیں؟ صرف ستمبر 2020ء میں بچّوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی کے جو واقعات رپورٹ ہوئے، اُن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم کس تیزی سے اندھیری کھائی میں گرتے جا رہے ہیں۔ 18ستمبر کو پنجاب میں ایک ہی دن میں خواتین اور بچّوں سے جنسی زیادتی کے 10واقعات ہوئے۔ 20ستمبر کو لاہور، گوجرانوالہ اور گوجرہ میں 4بچیوں کے ساتھ زیادتی، تھانے دار بھی ملوّث نکلا۔ 21ستمبر کو سرگودھا، مانگا منڈی، گوجرانوالہ، اوکاڑہ، جلال پور جٹاں میں 5خواتین اور 5بچّوں سے زیادتی، رائے ونڈ میں ایک دکان دار کی 5سالہ بچّی سے زیادتی کی کوشش، مانسہرہ میں معصوم بچّی سے زیادتی، آزاد کشمیر میں بھی ایک 5سالہ بچّی زیادتی کا نشانہ بنی۔

جو خاموشی سے دنیا چھوڑ گئے

شاید ہی کوئی ایسا دَور گزرا ہو، جب پاکستان میں کم سِن بچّوں، بچیوں کے ساتھ جنسی تشدّد کے واقعات پیش نہ آئے ہوں۔ جب ذرائع ابلاغ محدود تھے، تو نہ جانے کتنے بچّے جنسی تشدّد کا نشانہ بننے کے بعد اپنی خاندانوں کو دُکھوں کی آگ میں جھلستا چھوڑ کر چُپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جایا کرتے، لیکن جب سے میڈیا، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے وسعت اختیار کی ہے، مُلک کے کسی بھی حصّے میں رُونما ہونے والے واقعے کی گونج لمحوں میں سُنائی دینے لگتی ہے۔ شرم ناک اور انسانیت سوز واقعات کی روزانہ سامنے آنے والی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر کتنے بدنما داغ ہیں۔ کم سِن بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایسے ہول ناک واقعات بھی منظرِ عام پر آنے لگے ہیں کہ لوگ اُنہیں قیامت کی نشانیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔دیہات میں پائی جانے والی گینگ ریپ کی ایک بدنما صُورت کا 2012ء میں پردہ چاک ہوا، جب ضلع مظفّر گڑھ کے قصبے، فیروز والا میں ایک قبائلی جرگے نے 33سالہ خاتون، مختاراں مائی کو بھائی کے جرم کے بدلے گینگ ریپ کی سزا سُنائی۔ جرگے کا خیال تھا کہ اِس رسوائی اور ذلّت کے بعد وہ خودکُشی کر لے گی، لیکن پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر جوں ہی یہ خبر میڈیا تک پہنچی، عالمی خبروں کا موضوع بن گئی۔مختاراں مائی پر فلم بنی اور کئی غیر مُلکی جرائد اور تنظیموں نے اسے ’’ویمن آف دی ایئر‘‘ کا بھی خطاب دیا۔ جرگے میں فیصلہ سُنانے والے گرفتار ہوئے اور عدالت نے اُنھیں سزائے موت سُنائی، لیکن بعدازاں 2015ء میں اعلیٰ عدلیہ سے بیش تر ملزمان کو رہائی مل گئی۔ 2015ء میں قصور میں 300سے زاید بچّوں کے ساتھ زیادتی اور اُن کی ویڈیوز بنا کر بیرونِ مُلک بھیجنے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا۔ اِس اسکینڈل سے متعلق متضاد خبریں سامنے آئیں۔ والدین شرم کے مارے اِس واقعے کو اُچھالنے کے حق میں نہیں تھے۔ عام خیال کے مطابق، یہ کاروبار بعض مقامی سیاست دانوں اور پولیس کی ملی بھگت سے جاری تھا۔بچّوں کی ویڈیوز پورنو گرافی کے بین الاقوامی گروہوں کو بھیجی جاتی تھیں۔تاہم، اِس کیس میں کسی کو عبرت ناک سزا نہ مل سکی۔ 2018ء میں اس معاملے نے پھر سر اُٹھایا، جب قصور ہی میں 7سالہ زینب اور سات نوعُمر لڑکوں کو جنسی تشدّد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ان کی تشدّد زدہ لاشیں قصور، چونیاں اور نواحی علاقوں میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں سے ملیں۔ ان اطلاعات پر پورے مُلک میں غم وغصّے کی لہر دوڑ گئی۔ سپریم کورٹ نے تو نوٹس لینا ہی تھا، حکم ران بھی آنکھیں مَلتے اُٹھ بیٹھے کہ آخر معاشرے میں ہو کیا رہا ہے۔ پولیس ان لرزہ خیز واقعات میں بھی روایتی سُستی دِکھا رہی تھی، لیکن لاہور ہائی کورٹ کی سرزنش اور الٹی میٹم کے بعد عمران نامی درندہ زینب اور دیگر بچّوں سے جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار ہوا۔مقدمہ چلا اور پھر اُسے پھانسی دے دی گئی۔ یوں ایک خوف ناک باب کے آخر میں ’’ختم شُد‘‘ لکھ کر اپنے تئیں اُسے بند کر دیا گیا، لیکن حکومتی عمایدین اور معاشرتی ماہرین کو اندازہ نہ تھا کہ اس ناسور پر صرف پٹّی باندھ دی گئی ہے، زخم ابھی موجود ہے اور اس سے خون بھی رِس رہا ہے۔جب مختاراں بی بی کیس کی بازگشت پوری دنیا میں سُنائی دی اور معاشرے کے ہر طبقے نے اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی، تو ایسا لگا کہ اب ان واقعات میں کچھ کمی آجائے گی، لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا۔بعد میں بھی کئی بار حکم رانوں کی جانب سے جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے بلند بانگ دعوے اور اعلانات کیے گئے، مگر سب’’ رات گئی، بات گئی‘‘ کے مصداق ٹھہرے۔یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین سیاسی عدم استحکام، غربت، منہگائی، اسلحے کے آزادانہ استعمال، نشے کی وبا، بے روزگاری اور فحش لٹریچر تک آسان رسائی کو ان بڑھتے جرائم کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ، چائلڈ لیبر نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ پاکستان کی چائلڈ لیبر مارکیٹ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ بچّوں پر مشتمل ہے، جو ہوٹلز، ورکشاپس، گھروں، دفاتر، زمین داروں اور وڈیروں کی حویلیوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں۔ ان میں کم سِن بچیاں بھی شامل ہیں۔ ان بچّوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اُٹھائے ہوئے اُن سے جو ظالمانہ اور بہیمانہ سلوک کیا جا رہا ہے، وہ ہمارے معاشرے کے لیے کلنک کا ٹیکا ہے۔ پاکستان میں کتنے کم سِن بچّے اور بچیاں روزانہ جنسی تشدّد کا شکار ہوتے ہیں، اس حوالے سے مستند اعداد وشمار کی فراہمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ 80، 90فی صد واقعات تو’’ معاشرتی بلیک ہول‘‘ میں ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جدید ٹیکنالوجی سے کرائم روکنا آسان

خوف ناک اعدادوشمار

پاکستان میں اگرچہ پولیس، محکمۂ شماریات اور دیگر ادارے گاہے بگاہے جرائم کی رپورٹس مرتّب کرتے رہتے ہیں، جب کہ بعض این جی اوز بھی اِس حوالے سے کافی سرگرم ہیں۔اسی طرح کی ایک این جی او ’’ساحل‘‘ ہے، جو گزشتہ 12-10سال سے بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی سالانہ رپورٹ مرتّب کر رہی ہے۔ اُس کی 2018ء کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 2232کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2017ء کے مقابلے میں 11فی صد زیادہ تھے۔ 2019ء کی کرائم اینڈ سیفٹی رپورٹ میں صرف لاہور میں مجموعی مجرمانہ کارروائیوں میں 84ہزار کیسز کے ساتھ دو فی صد اضافہ بتایا گیا۔ 13؍ مئی 2020ء کی ایک رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ جنوری اور جون 2019ء کے دَوران روزانہ اوسطاً 7 بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ اِس ضمن میں ہیومن رائٹس واچ کی ایک حالیہ رپورٹ بھی توجّہ طلب ہے، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ہر دو گھنٹے میں آبرو ریزی کی ایک واردات ہوتی ہے، جب کہ70 فی صد عورتیں گھریلو تشدّد کا نشانہ بنتی ہیں۔ اِس رپورٹ میں ایک فکر انگیز انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ 2018ء میں لاہور میں بچّوں کے ساتھ جرائم کے 77کیسز ہوئے، جن میں 140ملزمان کو پکڑا گیا، مگر وہ سب ضمانتوں پر رہا ہوگئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادتی اور اغوا کا نشانہ بننے والے بچّوں کی اکثریت غریب اور متوسّط گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان اعدادوشمار کو حتمی تو قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن اگر اعدادوشمار میں تھوڑا بہت فرق ہو، تب بھی صُورتِ حال کسی حد تک سامنے تو آ ہی جاتی ہے، تاہم این جی او’’ساحل‘‘ کی رپورٹ قدرے جامع ہے۔ اُس کے مطابق، 2018 ء اور 2019ء میں بچّوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ زیادتی کی یومیہ اوسط 9سے 12 کے درمیان رہی۔ 2018ء میں رپورٹ ہونے والے 2232کیسز میں 26فی صد لڑکیاں اور 44فی صد لڑکے زیادتی کا نشانہ بنے۔ان میں سے 65فی صد کیسز پنجاب، 25فی صد سندھ، 3فی صد کے پی کے اور 2فی صد بلوچستان میں ہوئے۔ وارداتوں کے حوالے سے قصور، اوکاڑہ اور چونیاں کو خطرناک ترین قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بچّوں کے ساتھ زیادتی، اغوا اور ہراسانی کے واقعات میں 30فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ نشانہ بننے والے بچّوں کی عُمریں 5سال سے 18سال اور لڑکیوں کی 6سے 15سال کے درمیان تھیں۔اِس رپورٹ کو’’ CRUEL NUMBERS‘‘ یعنی’’ ظالمانہ اعدادوشمار‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔این جی او نے یہ رپورٹ 84علاقائی اور قومی اخبارات میں چَھپنے والی خبروں کی بنیاد پر مرتّب کی۔اسی نے 2019ء میں بھی ایک رپورٹ مرتّب کی، جس میں 2018ء کے مقابلے میں واقعات میں قدرے کمی بتائی گئی، لیکن پھر بھی زیادتی کا شکار ہونے والوں کی تعداد یومیہ 8سے کم نہ ہو سکی۔ اس رپورٹ کی ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ زیادتی کا نشانہ بنانے والے بیش تر ملزمان بچّوں کے رشتے دار اور محلّے دار تھے، اجنبی ملزمان کی تعداد بہت کم تھی۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ جن بچّوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اُن میں سے 64فی صد کا تعلق دیہات اور 36فی صد کا شہری علاقوں سے تھا۔ رپورٹ میں زینب کیس کے حوالے سے کہا گیا کہ’’ اگرچہ زینب اور دیگر بچّوں کے اغواء اور قتل نے پورے مُلک کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن اِس واقعے کے بعد بھی اس علاقے میں وارداتیں ختم نہ ہو سکیں۔‘‘ رپورٹ میں مقتول بچّوں کے والدین کی تعریف کی گئی کہ اُنہوں نے اس ظلم و زیادتی کے خلاف معاشرے میں کُھل کر آواز بلند کی، جب کہ اِس سے پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عورت اورحجاب

حقائق جو کبھی منظر عام پر نہیں آتے

ورکشاپس، ہوٹلز، گھروں اور دفاتر میں کام کرنے والے لاکھوں ’’چھوٹے‘‘ بڑوں کے رحم و کرم پر ہیں، لیکن ان سے ناروا سلوک کی بہت کم داستانیں منظرِ عام پر آ پاتی ہیں۔ اِسی طرح مُلک بھر میں پھیلے 20ہزار سے زاید رجسٹرڈ دینی مدارس میں زیرِ تعلیم 20لاکھ بچّوں کو بھی بعض اوقات انتہائی اذیّت ناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلاشبہ تمام دینی مدارس میں ایسا نہیں ہوتا اور وہاں اِس طرح کے معاملات پر گہری نظر رکھی جاتی ہے، تاہم کئی ایک، بالخصوص غیر رجسٹرڈ مدارس میں بچّوں سے ہونے والے بھیانک سلوک کے مناظر سوشل میڈیا پر عام ہیں۔بچّوں کے پیروں میں زنجیریں ڈالنا، بجلی کا کرنٹ لگانا اور ڈنڈوں، لاتوں، مُکّوں سے تشدّد معمول کی بات تصوّر کی جاتی ہے۔واقفانِ حال کے مطابق اِس طرح کے واقعات کا عُشرِ عشیر بھی منظرِ عام پر نہیں آتا۔ ایک خبر رساں ادارے کے نمایندے نے بھی، جس نے کے پی کے اور پنجاب میں واقع دینی مدارس سے متعلق رپورٹ مرتّب کی تھی، اِس طرح کے کئی واقعات کا انکشاف کیا۔ نمایندے نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچّوں اور اُن کے والدین کے ناموں کے ساتھ انکشاف کیا کہ ایسے 80فی صد کیسز آخر میں راضی نامے اور معافی تلافی پر ختم ہو جاتے ہیں۔ بیش تر اوقات والدین یہ کہہ کر معاملہ لپیٹ دیتے ہیں کہ’’ اگر پولیس یا عدالت میں گئے، تو پورے قبیلے میں بدنام ہو جائیں گے‘‘، جب کہ ملزم یہ کہہ کر معافی کا طلب گار ہوتا ہے کہ’’ اُس پر شیطان سوار ہو گیا تھا۔‘‘ ایسے کیسز بھی سامنے آئے کہ ہلاکت کی صُورت میں مدرسے کے کسی استاد پر الزام لگانے کی بجائے بچّے کے لواحقین نے اُس کی موت کا سبب چھت سے گرنا قرار دے دیا۔

نہ ختم ہونے والا سلسلہ

حکومت کی بیڈ گورنینس، پولیس کے کاموں میں مداخلت، غربت، منہگائی، سیاسی افراتفری اور بے روزگاری بڑھنے سے جرائم پیشہ عناصر بھی منہ زور ہوتے جا رہے ہیں۔ اِس کا واضح ثبوت سانحۂ موٹر وے ہے،جہاں ایک خاتون کے ساتھ ہونے والا زیادتی کا واقعہ پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا۔ پھر یہ کہ اِس سے زیادہ باعثِ آزار پولیس افسران کا رویّہ ہے، جیسے جب قصور میں ایک بچّی کی لاش کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے ملی، تو ایک پولیس افسر نے مقتول بچّی کے والد سے کہا’’ وہ لاش تلاش کرنے پر پولیس اہل کار کو انعام دیں۔‘‘ اِسی طرح حالیہ موٹر وے کیس میں ایک پولیس افسر نے خاتون ہی کو ذمّے دار ٹھہراتے ہوئے کہا’’ آخر وہ رات کے وقت اکیلی سفر پر نکلی ہی کیوں؟‘‘ اگر کوئی بچّہ لاپتا ہوجائے،تو تھانے کا محرّر والدین سے کہتا ہے’’ اُسے جا کر خود ڈھونڈو یا چند دن صبر کرو۔ بچّہ خود ہی واپس آ جائے گا۔‘‘ یہ ایک دِل خراش حقیقت ہے کہ مُلک بھر کے تھانے تحفّظ و سلامتی کے ضامن بننے کی بجائے عوام کے لیے خوف کی علامت بن چُکے ہیں۔ آزادی سے پہلے انگریز حکومت پولیس سے ایسا ہی چاہتی تھی، مگر وہ اب تک اس ذہنیت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائی۔ ایسے عدم تحفّظ کے ماحول میں جب کبھی کسی بچّے سے جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے، تو والدین پولیس کو رپورٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ اُنھیں وہاں سے داد رسی کی اُمید کم ہی ہوتی ہے۔ یہی کیفیت کراچی کی 6 سالہ مروا کے والدین کی ہے، جس کی ادھ جلی لاش ایک ویران جگہ سے ملی۔ کراچی میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ مارچ 2020ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 5سال میں سندھ میں بچّوں سے جنسی زیادتی کے 358کیسز ہوئے، جن میں 252لڑکے اور 106لڑکیاں تھیں۔ ان کیسز میں سے 116بچّے صرف کراچی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، اِس بہیمانہ کھیل میں 5 سے 18سال کی عُمر کی لڑکیاں زیادہ نشانہ بنیں۔رپورٹ کے مطابق 5سال میں پولیس نے پورے صوبے سے 408 مشتبہ افراد گرفتار کیے۔ 257مقدمات متعلقہ عدالتوں میں پیش کیے گئے، جب کہ17 کیسز میں ملزمان کا سُراغ ہی نہیں لگایا جا سکا۔ 17مقدمات میں ملزمان نے جرم کا اعتراف کیا، جب کہ 132مقدمات میں ملزم بری ہو گئے AWR117 کیسز اب بھی زیرِ سماعت ہیں۔

دُکھوں کا مداوا کون کرے؟

اعدادوشمار سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ مُلک کا کوئی بھی شہر، قصبہ یا گائوں بچّوں سے جنسی زیادتی کی وارداتوں سے محفوظ نہیں۔نیز، تشویش ناک بات یہ ہے کہ اِن وارداتوں میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ والدین پریشان ہیں کہ کیا کریں؟ بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ پولیس بھی اُن کے دُکھوں کا مداوا نہیں کرتی اور نظامِ عدل بھی اِتنا پیچیدہ، طویل، منہگا اور ناقابلِ رسائی ہے کہ زخم خوردہ اور غم زدہ والدین کی کچہریوں کی خاک چھاننے کی ہمّت ہی نہیں ہوتی۔ حکومت اور سرکاری وکلاء کو اُن کا ساتھ دینا چاہیے، لیکن اُن کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ اپریل 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستانی عدالتوں میں تقریباً 19 لاکھ مقدمات تصفیہ طلب تھے۔ پولیس پر عدم اعتماد اور عدالتی نظام پر شکوک و شبہات، چکّی کے دو ایسے پاٹ ہیں، جس میں متاثرین پستے چلے آرہے ہیں۔ستمبر 2020ء کے آخری ہفتے میں حکومت نے اِس مسئلے کو ذرا سنجیدگی سے لیا، جب کابینہ کے ایک اجلاس میں وزیرِ اعظم، عمران خان کو خواتین اور بچّوں کے جنسی تشدّد سے بچاؤ کے ایک بل پر بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس بل کو کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں پیش کیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ تھا کیا؟

عوام کے نوحے

ہمارے معاشرے کی عمومی کیفیت یہی ہے کہ جب بھی اِس قسم کے واقعات رُونما ہوتے ہیں، تو چائے کے اُبال کی طرح ہر طرف سے’’ زندہ باد، مُردہ باد‘‘ کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں، مگر یہ جوش جلد ہی سرد پڑ جاتا ہے۔ اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، تو یہی جذبات کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان میں 17کروڑ افراد کے پاس موبائل فونز ہیں اور اُن میں سے لاکھوں سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں، تو ایسی پوسٹس لمحوں میں وائرل ہوجاتی ہیں۔ لاہور موٹر وے کیس اور کراچی میں مروا کا قتل سوشل میڈیا پر کئی روز چھایا رہا۔ اس ضمن میں کئی عمدہ تحریریں بھی ضمیر جھنجوڑتی رہیں، جن میں سے ایک ملاحظہ کیجیے، جو ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے لکھی ہے’’کیا آپ نے بھیگے پَروں والی چڑیا دیکھی ہے، جو حملہ آور کو دیکھ کر تھر تھر کانپ رہی ہوتی ہے۔ اُس کی رُوح آنکھوں میں سِمٹ آتی ہے۔ کیا آپ نے اُس کی وحشت بھری چیخیں سُنی ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مومنہ، زینب، مروا آپ کی بچیاں بھی تو ہو سکتی ہیں؟ کیا آپ نے کبھی اُن کی آخری لمحوں کی کش مکش کی اذیّت محسوس کرنے کی کوشش کی؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ جب اُن کی رُوح پرواز کرنے کو تیار ہو گی، تو وہ اپنے ربّ سے کیا کہہ رہی ہوں گی؟ آپ کیوں یہ سوچتے ہیں کہ جہاں آگ لگی ہے، وہ آپ کا گھر نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب ہول ناک مجرمانہ وارداتیں ہوتی ہیں تو سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایسے نوحے بلند ہوتے ہیں، لیکن جب ذمّے دار حکّام اور امن و امان کے محافظ، صُورتِ حال کی اصلاح کی بجائے اپنے گھر کی چار دیواری کو اونچا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، تو پھر مایوس اور بیزار لوگ بھی اُس وقت تک سو جاتے ہیں، جب تک کہ زینب جیسی کسی اور ننّھی پری کی تشدّد زدہ لاش ملنے کی بریکنگ نیوز اُنہیں جھنجوڑ نہیں دیتی۔‘‘ ماہرِ سماجیات اور سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونی ورسٹی کے سابق پروفیسر، اے ایم خالد موجودہ دِل گرفتہ صُورتِ حال کے بارے میں کہتے ہیں’’ چند روز قبل ایک پروگرام میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض علی چشتی کی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا، جس میں اُنہوں نے پاکستانی قوم کی اکثریت کو’’ نالائقوں کا ہجوم‘‘ قرار دیا ، مَیں پہلے تو یہ سُن کر تلملا اُٹھا، لیکن پھر جب ٹھنڈے دل ودماغ سے قیامِ پاکستان کے بعد کی تاریخ پر نظرڈالی، تو معلوم ہوا کہ بہت حد تک یہ درست بھی ہے کہ ہم واقعی ایسے باصلاحیت اور ذہین افراد سے تیزی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، جو مُلک کو صحیح طور پر چلاسکیں۔ طبقاتی بُعد نے معاشرے میں پیسے کمانے کے ایک ہول ناک دور (RAT RACE)کو جنم دیا، جس کے مظاہر ہمیں ادویہ اور اشیائے خوردنی میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کرپشن اور دیگر لاتعداد برائیوں کی صُورت نظر آتے ہیں۔یہاں تو پیسے کی خاطر بعض افراد خودکُش حملوں کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ جب منہگائی اِتنی بڑھ جائے کہ لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں، تو پھر بیوی، بچّوں کو روٹی فراہم کرنے والے کے جذبات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ خودکُشی اور جرائم کی جتنی وارداتیں آج ہو رہی ہیں، اِس سے پہلے کبھی نہ تھیں۔اِس وقت مُلک میں انارکی کی صُورتِ حال ہے کہ آپ آٹا، گھی، چینی، سبزی اور دالوں کے نرخ جتنے مرضی بڑھا لیں، کوئی پوچھے گا نہیں۔کسی کو قتل کر دیں ،گینگ ریپ کریں یا کسی کو نشے میں گاڑی کے نیچے کچل دیں، ثبوت کے باوجود آپ گواہ نہ ملنے پر چُھوٹ جائیں گے، جب کہ بے گناہ پھانسی لگ جائیں گے۔ جیسا کہ قصور میں پولیس نے بچّوں کے اغوا کے جرم میں ایک غریب کباڑیے کے نوجوان بیٹے کو مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا، جو بعدازاں بے گناہ ثابت ہوا۔اخلاقی بگاڑ کا یہ خاردار درخت ہمارا اپنا لگایا ہوا ہے، جس کا پھل کڑوا اور جڑیں پاتال تک پھیلی ہوئی ہیں، لیکن مِن حیث القوم ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ جب آتش فشاں پھٹتا ہے، تو آسمان سے برسنے والی آتشیں راکھ یہ نہیں دیکھتی کہ کون محلّات میں رہتا ہے اور کون جھونپڑی کا مکین ہے۔‘‘

آخر اِس کا حل کیا ہے ؟

اے ایم خالد کہتے ہیں ’’اِس سوال کے جواب میں تو اِتنا کچھ کہا اور لکھا گیا ہے کہ دفتر بھی کم پڑ جائیں ،لیکن میرے خیال میں کالم نگار، حسن نثار کے یہ الفاظ کئی کتب پر حاوی ہیں کہ ’’جب تک موجودہ نام نہاد جمہوری نظام کو جھلسا دینے والے تیزاب سے غسل نہیں دیا جائے گا، خوش حالی، امن اور سکون کا یہ سراب یونہی رہے گا، جس کے پیچھے قوم 70سال سے بھٹک رہی ہے۔‘‘