dilit

بھارت میں ٹیچر نے دلت طالب علم کو املا کی غلطی پر مبینہ طور پر قتل کر دیا

EjazNews

انڈیا میں سکول کے ایک استاد نے صرف ہندسے کی غلطی پر ایک بچے کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔یہ بچہ ہندوئوں کی نچلی ذات ’’دلت‘‘ سے تعلق رکھتا تھا۔

جب سے انڈیا میں بی جے پی کی پر تشدد حکومت تشکیل پائی ہے تب سے ہندو انتہا پسند وں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔ چاہے وہ ان کے ہم مذہب ہوں یا دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں۔

نکھل ڈوہرے نامی دلت بچے کو اس کے استاد نے ایک چھڑی سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد پر اپنی لاتوں سے تشدد کیا۔
15 سالہ نوجوان پیر کے روز شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا اور ملزم علاقے سے فرار ہو گیا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق پولیس افسر مہندر پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ ’’وہ فرار ہے، لیکن ہم اسے جلد ہی گرفتار کر لیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  بے یارو مددگار ،نہتے فلسطینی اور بندوقیں اٹھائےاسرائیلی پولیس اہلکار

دلت برادری ’’اچھوت‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ انڈیا کے ذات پات کے نظام کی سب سے نچلی سطح پر یہ ذات ہے اور صدیوں سے تعصب اور امتیازی سلوک کا شکار ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پونی متل نے کہا کہ حملہ کے مقام اوریا ضلع میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جس میں لڑکے کی لاش کی تدفین سے قبل استاد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ لڑکے کو چند ہفتے قبل اس کے استاد نے املا کی غلطی کرنے پر مارا پیٹا تھا۔ اب خاندان نے اسے ذات پات پر مبنی نفرت انگیز جرم قرار دیا ہے۔پیر کو سینکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس کی گاڑی کو نذر آتش کر دیا۔

پولیس افسر سنگھ نے بتایا کہ تقریباً ایک درجن مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چارو نگم کا کہنا تھا ’’ہم نے ہجوم کو قابو کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور حالات جلد ہی قابو میں آگئے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شدت،شہدا کی تعداد 28ہو گئی ، 150سے زائد زخمی

متل نے کہا کہ ہندوستان میں ذات پات پرستی اور ذات پات پر مبنی تشدد کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے، جہاں اچھوت پر پابندی ہے لیکن بدستور جاری ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، انڈیا میں اوسطاً ہر گھنٹے میں پانچ ذات پات پر مبنی نفرت انگیز جرائم ہوتے ہیں۔

دلت ویمن فائٹ آرگنائزیشن کی شریک بانی ریا سنگھ کا کہنا تھا یہ واقعہ ’’ذات میں پھیلی ہوئی نفرت کا عکاس ہے جو اعلیٰ یا غالب ذات کے لوگ دلتوں کے خلاف رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’نفرت اب بھی اتنی مضبوط ہے کہ یہ چھوٹے بچوں تک بھی پھیلتی ہے اور انہیں مار دیتی ہے،‘‘
سنگھ نے کہا کہ انڈیا کو یہ قبول کرنا چاہئے کہ ذات پات کا تعصب ہے اور لوگ اپنی ذات کے تعصب کو جواز بنانے کے لئے جرائم اور تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔