Islam_zakat

قرآن مجید میں زکوۃ کا بیان

EjazNews

اللہ عز وجل فرماتا ہے:
( اورمتقی وہ ہیں کہ) ہم نے جو انہیں دیا ہے، اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔(پ1،البقرۃ3:)

ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس کی وجہ سے انہیں پاک اور ستھرا بنا دو۔(پ 11 ۔التوبۃ103:)

اور فلاح پاتے ہیں جوزکو ۃ ادا کرتے ہیں۔ (پ18: ۔المؤمنون4:)

اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اور دے گا اور وہ بہتر روزی دینےوالا ہے۔(پ\22 ۔سبا39:)

جولوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی کہاوت اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں ۔ ہر بال میں سے ایک سودانے ،اور اللہ جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا اور بڑاعلم والا ہے۔ جولوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے نہ اذیت دیتے ہیں، ان کے لئے ان کا ثواب ان کے رب کے حضور ہے اور ان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ اچھی بات اور مغفرت اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت دینا ہو اور اللہ بے پروا اور علم والاہے۔(پ3،البقرۃ:261,263)

یہ بھی پڑھیں:  وضو اور غسل کی صفات

تک اس میں سے نہ خرچ کرو جسے محبوب کے ہواور جو کچھ خرچ کرو گے اللہ اسے جانتا ہے۔(پ:4،آل عمران:92)

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ہرگزنیکی حاصل نہ کرو گےجب تک اس میں سے نہ خرچ کرو جسے محبوب رکھتے ہو اور جو کچھ خرچ کرو گے اللہ اسے جانتا ہے۔ (پ4۔ آل عمران:92)

نیکی اس کا نام نہیں کہ مشرق ومغرب کی طرف منہ کر دونیکی تو اس کی ہے جواللہ اور پچھلے دن اور ملائکہ و کتاب و انبیاء پر ایمان لایا اور مال کو اس کی محبت پر رشتہ داروں اور تیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سائلین کو اور گردن چھڑانے میں دیا اور نماز قائم کی اورز کوۃ دی اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی معاہدہ کریں تو اپنے عہد کو پورا کر یں اور تکلیف ومصیبت اورلڑائی کے وقت صبر کرنے والےوہ لوگ سچے ہیں اور وہی لوگ متقی اور پرہیزگار ہیں‘‘۔(پ2،البقرۃ:177)

یہ بھی پڑھیں:  تجارت کے فائدے

اور فرماتا ہے:
جولوگ بخل کرتے ہیں اس کے ساتھ جواللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ ان کے لئے بہتر ہے بلکہ یہ ان کے لئے برا ہے۔ اس چیز کا قیامت کے دن ان کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا جس کے ساتھ بخل کیا۔(پ:4،آل عمران:180)

اور فرماتا ہے:
جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو جس دن آتش جہنم میں تپائے جائیں گے اور ان سے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی ( اور ان سے کہا جائے گا ) یہ وہ ہے جو تم نے اپنے نفس کے لئے جمع کیا تھا تو اب چکھو جو جمع کرتے تھے ۔(پ 10:۔التوبہ : 35,34)